پیر کو جو وسط مدتی انتخابات سے پہلے انتخابی مہم کا آخری دن تھا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جرائم کی شرح، دولت اور ادویات کی قیمتوں کے بارے میں مختلف دعوے کیے۔ بی بی سی ویریفائی نے صدر کے ان دعوؤں کا جائزہ لیا۔ واشنگٹن ڈی سی میں جرائم کی شرح 90 فیصد کم ہونے کا دعویٰ میٹروپولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی دارالحکومت میں مجموعی طور پر رپورٹ ہونے والے جرائم میں کمی آئی ہے، جہاں ٹرمپ نے اگست 2025 میں وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور نیشنل گارڈ کو تعینات کیا تھا، تاہم یہ کمی صدر کے دعوے کے مطابق ہرگز نہیں ہے۔ اس سال (2 نومبر تک) مجموعی رپورٹ شدہ جرائم 2025 کے مقابلے میں 11 فیصد کم ہیں۔ بعض اقسام کے جرائم میں زیادہ کمی دیکھی گئی ہے، مثلاً گاڑیوں سے چوری کے واقعات میں 40 فیصد کمی آئی ہے۔ تاہم بعض دیگر جرائم میں اضافہ بھی ہوا ہے، جن میں پرتشدد جرائم شامل ہیں، جو 12 فیصد بڑھے ہیں۔ ملکی دولت میں 25 ٹریلین ڈالر اضافے کا دعویٰ یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ ’دولت‘ کی کس پیمائش کا حوالہ دے رہے تھے۔ فیڈرل ریزرو کے اعداد و شمار کے مطابق امریکی خالص دولت، یعنی گھریلو شعبے، کاروباری اداروں اور حکومت کی ملکیتی اثاثوں کی مجموعی مالیت، 2024 میں 155 ٹریلین ڈالر سے بڑھ کر جون میں 181 ٹریلین ڈالر ہو گئی۔ ممکن ہے ٹرمپ کا اشارہ بیرونی سرمایہ کاری کی جانب ہو۔ تاہم وائٹ ہاؤس کی اپنی سرمایہ کاری سے متعلق معلومات کے مطابق ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے سرمایہ کاری کا حجم 11.3 ٹریلین ڈالر ہے، جو ان کے دعوے سے کہیں کم ہے۔ ’پہلے ہمارے ہاں دنیا میں ادویات کی قیمتیں سب سے زیادہ تھیں اور اب سب سے کم ہیں‘ تاریخی طور پر امریکہ میں ادویات کی قیمتیں دیگر ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں زیادہ رہی ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ نے بعض ادویات کے اخراجات کم کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں، جن میں ایک ایسی ویب سائٹ کا اجرا بھی شامل ہے جو 800 سے زیادہ نسخہ جاتی ادویات پر رعایت فراہم کرتی ہے۔ سرکاری مہنگائی کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر تک کے 12 ماہ میں نسخہ جاتی ادویات کی قیمتوں میں 4.5 فیصد کمی آئی۔ تاہم دنیا بھر میں ادویات کی قیمتوں کے بارے میں محدود اعداد و شمار دستیاب ہیں، اس لیے ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ امریکہ میں اب ادویات کی قیمتیں دنیا میں سب سے کم ہیں۔